دبئی 23جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ماضی میں متعدد تحقیقی مطالعوں میں یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ طویل دورانیے تک بیٹھے رہنے کے انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ہونے والی نئی امریکی تحقیق میں انتہائی دھچکا پہنچانے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ طویل دورانیے تک بیٹھے رہنے سے بڑھاپا تیزی سے آتا ہے!امریکی ریاست کیلی فورنیامیں ہونے والی اس طبی تحقیق کے مطابق انسان کا بیٹھنا "DNA" کے اندر تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ تبدیلیاں بڑھاپے کی علامات کے جلد ظاہر ہونے کے ساتھ مربوط ہیں جن کا انسانی جلد پر منفی اثر پڑتا ہے۔تحقیقی مطالعے میں 64سے65 برس کی تقریبا 1500 خواتین کو شامل کیا گیا۔ اس دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ جو خواتین بنا حرکت کیے روزانہ 10 گھنٹوں سے زیادہ بیٹھی رہتی ہیں وہ جسم میں "اجزاء ِ آخر" یعنی telomeres (ڈی این اے کے سالمے پراساسوں bases کے تکراری حصوں) کی طوالت کم ہونے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ سائنسی شواہد اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ " اجزاء ِ آخر" کی طوالت کا گھٹتے چلے جانا زندگی کی طوالت کم ہو جانے سے سروکار رکھتاہے۔تاہم صحتمنداسلوبِ زندگی، سگریٹ نوشی اور موٹاپے کے اسباب سے دوری کے علاوہ روزانہ کم از کم تیس منٹ کی ورزش کے ذریعے.. اجزاء ِ آخر یا telomeres کے گھَٹنے کی رفتار کو سُست بنا کر زیادہ سرگرم اور غالبا زیادہ طویل زندگی سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔